عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فَجَاءَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْ هَذَا أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْ هَذَا أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْ هَذَا فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَزَبَرَهُ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا بِهَا نَادٍ أَكْثَرُ مِنِّي فَأَنْزَلَ اللَّهُ : ( فلْيَدْعُ نَادِيَهُ * سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ ) فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ لأَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ . وَفِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Abbas narrated:“The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was performing Salat when Abu Jahl came to him and said: ‘Have I not forbidden you from this? Have I not forbidden you from this? Have I not forbidden you from this?’ The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) turned and scolded him. So Abu Jahl said: ‘You know that no one has more to call for assistance than me.’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Then let him call upon his council. We will call out the guards of Hell.” So Hadrat Ibn Abbas said: “By Allah, if he had called his council, then the guards of Hell would have seized him.”
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ حضرت ابوجہل آ گیا، اس نے کہا: میں نے تمہیں اس ( نماز ) سے منع نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تجھے اس ( نماز ) سے منع نہیں کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا اور اسے ڈانٹا، حضرت ابوجہل نے کہا: تجھے خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ کسی کے ہم نشیں نہیں ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «فليدع ناديه سندع الزبانية» ”اپنے ہم نشینوں کو بلا کر دیکھ لے، ہم جہنم کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں“ ( العلق: ۱۷-۱۸ ) ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو عذاب پر متعین اللہ کے فرشتے اسے دھر دبوچتے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے۔
