عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي شَبَابَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَمَنْ يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ وَأَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : (وجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ * إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ مِثْلَ هَذَا مَرْفُوعًا . وَرَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ عَنْ ثُوَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَوْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ . وَرَوَى الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَوْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَ فِيهِ عَنْ مُجَاهِدٍ غَيْرَ الثَّوْرِيِّ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ . ثُوَيْرٌ يُكْنَى أَبَا جَهْمٍ وَأَبُو فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلاَقَةَ .
انگریزی ترجمہ
Thuwair narrated:“I heard Hadrat Ibn Umar say: ‘The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said, “Indeed the least of the people of Paradise in rank, is the one who shall look at his gardens, his wives, his servants, and his beds from the distance of a thousand years, and the noblest of them with Allah is the one who shall look at His Face morning and night.” Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) recited: Some faces on that day shall be radiant. They shall be looked at their Lord
اردو ترجمہ
ثویر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنتیوں میں کمتر درجے کا جنتی وہ ہو گا جو جنت میں اپنے باغوں کو، اپنی بیویوں کو، اپنے خدمت گزاروں کو، اور اپنے ( سجے سجائے ) تختوں ( مسہریوں ) کو ایک ہزار سال کی مسافت کی دوری سے دیکھے گا، اور ان میں اللہ عزوجل کے یہاں بڑے عزت و کرامت والا شخص وہ ہو گا جو صبح و شام اللہ کا دیدار کرے گا، پھر آپ نے آیت «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» ”اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے“ ( القیامۃ: ۲۳ ) ، پڑھی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور کئی راویوں نے یہ حدیث اسی طرح اسرائیل سے مرفوعاً ( ہی ) روایت کی ہے، ۲- عبدالملک بن ابجر نے ثویر سے، ثویر نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے، اور اسے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
