Al-Hasan bin Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) – and he is Al-Hanafiyyah- narrated from Ubaidallah bin Abi Rafi who said:“I heard Hadrat Ali bin Abi Talib saying: “the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) dispatched us – myself, Az-Zubair, and Al-Miqad bin Al- Aswad. He said: “Proceed until you reach Rawdah Khakh, where there is a lady carrying a letter. Take the letter from her and bring it to me.” So we proceeded on our way with our horses galloping until we reached the Rawdah. There we found the lady and said to her: “Give me the letter.” She said: “I have no letter.” We said: “Either you take out the letter, or we shall take off your clothes.’” He said: ‘So she took it out of her braid.’ He said: ‘We brought it to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and it was from Hatib bin Abi Balta’ah, addressed to some of people among the idolaters of Makkah, infrmed them of some matter regarding the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). So he said: “What is this O Hatib?” He said: “Do not be hasty with me O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I was a person who is an ally to the Quraish, not being related to them. The Muhajirun who are with you have relatives who can protect their families and their wealth in Makkah. So since I have no lineage among them, I wanted to do them a favor, so they might protect my relatives. I did not do this out of disbelief, nor to renegade from my religion, nor did I do it to chose disbelief [after Islam].” The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: “He said the truth.” Umar bin Al-Khattab said: “Allow me to chop off the head of this hypocrite!” The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: “Indeed he participated in (the battle of) Badr. You do not know, perhaps Allah looked at those who attended Badr and said: ‘O people of Badr! Do as you like, for I have forgiven you.’” He said: ‘It was about him, that this Surah was revealed: O you who believe! Do not take My enemies and your enemies as protecting friends showing affection towards them.’”
اردو ترجمہ
عبیداللہ بن حضرت ابورافع فرماتے ہیں کہ میں نے علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حضرت زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا، فرمایا: جاؤ، روضہ خاخ ۱؎ پر پہنچو وہاں ایک ھودج سوار عورت ہے، اس کے پاس ایک خط ہے، وہ خط جا کر اس سے لے لو، اور میرے پاس لے آؤ، چنانچہ ہم نکل پڑے، ہمارے گھوڑے ہمیں لیے لیے دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کر رہے تھے، ہم روضہ پہنچے، ہمیں ہودج سوار عورت مل گئی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال، اس نے کہا: ہمارے پاس کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکالتی ہے یا پھر اپنے کپڑے اتارتی ہے؟ ( یہ سن کر ) اپنی چوٹی ( جوڑے ) سے اس نے خط نکالا، ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے، وہ خط حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب سے تھا، مکہ کے کچھ مشرکین کے پاس بھیجا گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعض اقدامات کی انہیں خبر دی گئی تھی، آپ نے فرمایا: ”حاطب! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے خلاف حکم فرمانے میں جلدی نہ کریں، میں ایک ایسا شخص تھا جو قریش کے ساتھ مل جل کر رہتا تھا، لیکن ( خاندانی طور پر ) قریشی نہ تھا، باقی جو مہاجرین آپ کے ساتھ تھے ان کی وہاں رشتہ داریاں تھیں جس کی وجہ سے وہ رشتہ دار مکہ میں ان کے گھر والوں اور ان کے مالوں کی حفاظت و حمایت کرتے تھے، میں نے مناسب سمجھا کہ جب ہمارا ان سے کوئی خاندانی و نسبی تعلق نہیں ہے تو میں ان پر احسان کر کے کسی کا ہاتھ پکڑ لوں جس کی وجہ سے یہ اہل مکہ ہمارے گھر اور رشتہ داروں کی حفاظت و حمایت کریں، میں نے ایسا کفر اختیار کر لینے یا اپنے دین سے مرتد ہو جانے یا کفر کو پسند کر لینے کی وجہ سے نہیں کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حاطب نے سچ اور ( صحیح ) بات کہی ہے“، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ جنگ بدر میں موجود رہے ہیں، تمہیں معلوم نہیں، یقیناً اللہ نے بدر والوں کی حالت ( یعنی ان کے جذبہ جاں فروشی ) کو دیکھ کر کہہ دیا ہے: جو چاہو کرو ہم نے تمہارے گناہ بخش دیئے ہیں“، اسی سلسلے میں یہ پوری سورۃ «يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء» ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم انہیں دوستی کا پیغام بھیجتے ہو“ ( الممتحنۃ: ۱ ) ، آخر تک نازل ہوئی۔ عمرو ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: میں نے عبیداللہ بن ابی رافع کو دیکھا ہے، وہ علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے کاتب ( محرر ) تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی ایک نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے روایت کی ہے، اور ان سبھوں نے بھی یہی لفظ ذکر کیا ہے کہ علی اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما وغیرہ نے کہا: تمہیں خط نکال کر دینا ہو گا، ورنہ پھر تمہیں کپڑے اتارنے پڑیں گے، ۳- ابوعبدالرحمٰن السلمی سے بھی یہ حدیث مروی ہوئی ہے، انہوں نے علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے اسی حدیث کے مانند روایت کیا ہے، ۴- اس باب میں عمر اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور بعضوں نے ذکر کیا کہ انہوں نے کہا کہ تو خط نکال دے ورنہ ہم تجھے ننگا کر دیں گے۔
Al-Hasan bin Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) – and he is Al-Hanafiyyah- narrated from Ubaidallah bin Abi Rafi who said:“I heard Hadrat Ali bin Abi Talib saying: “the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) dispatched us – myself, Az-Zubair, and Al-Miqad bin Al- Aswad. He said: “Proceed until you reach Rawdah Khakh, where there is a lady carrying a letter. Take the letter from her and bring it to me.” So we proceeded on our way with our horses galloping until we reached the Rawdah. There we found the lady and said to her: “Give me the letter.” She said: “I have no letter.” We said: “Either you take out the letter, or we shall take off your clothes.’” He said: ‘So she took it out of her braid.’ He said: ‘We brought it to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and it was from Hatib bin Abi Balta’ah, addressed to some of people among the idolaters of Makkah, infrmed them of some matter regarding the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). So he said: “What is this O Hatib?” He said: “Do not be hasty with me O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I was a person who is an ally to the Quraish, not being related to them. The Muhajirun who are with you have relatives who can protect their families and their wealth in Makkah. So since I have no lineage among them, I wanted to do them a favor, so they might protect my relatives. I did not do this out of disbelief, nor to renegade from my religion, nor did I do it to chose disbelief [after Islam].” The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: “He said the truth.” Umar bin Al-Khattab said: “Allow me to chop off the head of this hypocrite!” The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: “Indeed he participated in (the battle of) Badr. You do not know, perhaps Allah looked at those who attended Badr and said: ‘O people of Badr! Do as you like, for I have forgiven you.’” He said: ‘It was about him, that this Surah was revealed: O you who believe! Do not take My enemies and your enemies as protecting friends showing affection towards them.’”
عبیداللہ بن حضرت ابورافع فرماتے ہیں کہ میں نے علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حضرت زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا، فرمایا: جاؤ، روضہ خاخ ۱؎ پر پہنچو وہاں ایک ھودج سوار عورت ہے، اس کے پاس ایک خط ہے، وہ خط جا کر اس سے لے لو، اور میرے پاس لے آؤ، چنانچہ ہم نکل پڑے، ہمارے گھوڑے ہمیں لیے لیے دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کر رہے تھے، ہم روضہ پہنچے، ہمیں ہودج سوار عورت مل گئی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال، اس نے کہا: ہمارے پاس کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکالتی ہے یا پھر اپنے کپڑے اتارتی ہے؟ ( یہ سن کر ) اپنی چوٹی ( جوڑے ) سے اس نے خط نکالا، ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے، وہ خط حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب سے تھا، مکہ کے کچھ مشرکین کے پاس بھیجا گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعض اقدامات کی انہیں خبر دی گئی تھی، آپ نے فرمایا: ”حاطب! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے خلاف حکم فرمانے میں جلدی نہ کریں، میں ایک ایسا شخص تھا جو قریش کے ساتھ مل جل کر رہتا تھا، لیکن ( خاندانی طور پر ) قریشی نہ تھا، باقی جو مہاجرین آپ کے ساتھ تھے ان کی وہاں رشتہ داریاں تھیں جس کی وجہ سے وہ رشتہ دار مکہ میں ان کے گھر والوں اور ان کے مالوں کی حفاظت و حمایت کرتے تھے، میں نے مناسب سمجھا کہ جب ہمارا ان سے کوئی خاندانی و نسبی تعلق نہیں ہے تو میں ان پر احسان کر کے کسی کا ہاتھ پکڑ لوں جس کی وجہ سے یہ اہل مکہ ہمارے گھر اور رشتہ داروں کی حفاظت و حمایت کریں، میں نے ایسا کفر اختیار کر لینے یا اپنے دین سے مرتد ہو جانے یا کفر کو پسند کر لینے کی وجہ سے نہیں کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حاطب نے سچ اور ( صحیح ) بات کہی ہے“، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ جنگ بدر میں موجود رہے ہیں، تمہیں معلوم نہیں، یقیناً اللہ نے بدر والوں کی حالت ( یعنی ان کے جذبہ جاں فروشی ) کو دیکھ کر کہہ دیا ہے: جو چاہو کرو ہم نے تمہارے گناہ بخش دیئے ہیں“، اسی سلسلے میں یہ پوری سورۃ «يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء» ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم انہیں دوستی کا پیغام بھیجتے ہو“ ( الممتحنۃ: ۱ ) ، آخر تک نازل ہوئی۔ عمرو ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: میں نے عبیداللہ بن ابی رافع کو دیکھا ہے، وہ علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے کاتب ( محرر ) تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی ایک نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے روایت کی ہے، اور ان سبھوں نے بھی یہی لفظ ذکر کیا ہے کہ علی اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما وغیرہ نے کہا: تمہیں خط نکال کر دینا ہو گا، ورنہ پھر تمہیں کپڑے اتارنے پڑیں گے، ۳- ابوعبدالرحمٰن السلمی سے بھی یہ حدیث مروی ہوئی ہے، انہوں نے علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے اسی حدیث کے مانند روایت کیا ہے، ۴- اس باب میں عمر اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور بعضوں نے ذکر کیا کہ انہوں نے کہا کہ تو خط نکال دے ورنہ ہم تجھے ننگا کر دیں گے۔