عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ هَذِهِ الآيَةِ : ( هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّاهُمُ اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرُوِيَ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَإِنَّمَا ذَكَرَ يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ . وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ أَيْضًا .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat ' Aishah that "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was asked about this Ayah: 'It is He who sent down to you the Book. In it are Ayat that are entirely clear... (3:7)' until the end of the Ayah. So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'When you see those who seek what is not entirely clear thereof, then it is they whom Allah has described, so beware of them
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے آیت «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات» کی تفسیر پوچھی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو آیات متشابہات کے پیچھے پڑے ہوئے دیکھو تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے اور ایسے لوگوں سے بچو“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ایوب سے بھی مروی ہے، اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ سے روایت کی ہے، ۳- ایسے ہی یہ حدیث متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ سے روایت کی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی اپنی روایات میں ”قاسم بن محمد“ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ان کا ذکر صرف ”یزید بن ابراہیم تستری“ نے اس حدیث میں «عن القاسم» کہہ کر کیا ہے، ۴- ابن ابی ملیکہ عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہیں، انہوں نے بھی حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ سے سنا ہے۔
