عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَبْصَرَ رَجُلاً مُتَخَلِّقًا قَالَ " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لاَ تَعُدْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدِ اخْتَلَفَ بَعْضُهُمْ فِي هَذَا الإِسْنَادِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ . قَالَ عَلِيٌّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مَنْ سَمِعَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَدِيمًا فَسَمَاعُهُ صَحِيحٌ وَسَمَاعُ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ صَحِيحٌ إِلاَّ حَدِيثَيْنِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ قَالَ شُعْبَةُ سَمِعْتُهُمَا مِنْهُ بِأَخَرَةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى يُقَالُ إِنَّ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ كَانَ فِي آخِرِ أَمْرِهِ قَدْ سَاءَ حِفْظُهُ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمَّارٍ وَأَبِي مُوسَى وَأَنَسٍ وَأَبُو حَفْصٍ هُوَ أَبُو حَفْصِ بْنُ عُمَرَ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Ya'la bin Murrah that "The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) saw a man wearing Khuluq and said: 'Go and wash it, then wash it, then do not use it again
اردو ترجمہ
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا ۱؎، تو آپ نے فرمایا: ”جاؤ اسے دھو ڈالو۔ پھر دھو ڈالو، پھر ( آئندہ کبھی ) نہ لگاؤ“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے عطا بن سائب سے اس حدیث کی اسناد میں اختلاف کیا ہے، ۳- علی ( علی ابن المدینی ) کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے کہ جس نے عطاء بن سائب سے ان کی زندگی کے پرانے ( پہلے ) دور میں سنا ہے تو اس کا سماع صحیح ہے اور شعبہ اور سفیان ثوری کا عطاء بن سائب سے سماع صحیح ہے مگر دو حدیثیں جو عطاء سے زاذان کے واسطہ سے مروی ہیں تو وہ صحیح نہیں ہیں، ۴- شعبہ کہتے ہیں میں نے ان دونوں حدیثوں کو عطاء سے ان کی عمر کے آخری دور میں سنا ہے۔ ( اور یہ حدیث ان میں سے نہیں ہے ) ، ۵- کہا جاتا ہے کہ عطاء بن سائب کا حافظہ ان کے آخری دور میں بگڑ گیا تھا، ۶- اس باب میں عمار، حضرت ابوموسیٰ، اور انس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
