عربی (اصل)
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلاَ يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ وَأَنَسٍ وَالْبَرَاءِ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ الاِعْتِدَالَ فِي السُّجُودِ وَيَكْرَهُونَ الاِفْتِرَاشَ كَافْتِرَاشِ السَّبُعِ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Jabir narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "When one of you prostrates, then let him be balanced, and let him not lay his forearms down like the lying of the dog
اردو ترجمہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اعتدال کرے ۱؎ اور اپنے ہاتھ کو کتے کی طرح نہ بچھائے“ ۲؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، انس، براء، ابوحمید اور حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ سجدے میں اعتدال کو پسند کرتے ہیں اور ہاتھ کو درندے کی طرح بچھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔
