عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ، لِي قَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنَ الْجَهْدِ فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَيْسَ أَحَدٌ يَقْبَلُنَا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَى بِنَا أَهْلَهُ فَإِذَا ثَلاَثَةُ أَعْنُزٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا " . فَكُنَّا نَحْتَلِبُهُ فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ وَنَرْفَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَصِيبَهُ فَيَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ عَلَيْنَا تَسْلِيمًا لاَ يُوقِظُ النَّائِمَ وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Al-Miqdad bin Al-Aswad that "Two of my companions and I went and presented ourselves to the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), for our hearing and sight had gone from suffering (hunger and thirst). But there was no one who would accept us. So we went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and he brought us to his family where there were three goats. the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Milk these.' We milked them, and each person drank his share, and we put aside a share for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came during the night and gave the Salam such that it would not wake the sleeping person, and the one who was awake could hear it. Then he went to the Masjid to per form Salat. Then he went for his drink and drank it
اردو ترجمہ
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے دو دوست ( مدینہ ) آئے، فقر و فاقہ اور جہد و مشقت کی بنا پر ہماری سماعت متاثر ہو گئی تھی ۱؎ اور ہماری آنکھیں دھنس گئی تھیں، ہم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے لگے لیکن ہمیں کسی نے قبول نہ کیا ۲؎، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے تو آپ ہمیں اپنے گھر لے آئے، اس وقت آپ کے پاس تین بکریاں تھیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان کا دودھ ہم سب کے لیے دوہو“، تو ہم دوہتے اور ہر شخص اپنا حصہ پیتا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ اٹھا کر رکھ دیتے، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رات میں تشریف لاتے اور اس انداز سے سلام کرتے تھے کہ سونے والا جاگ نہ اٹھے اور جاگنے والا سن بھی لے ۳؎، پھر آپ مسجد آتے نماز تہجد پڑھتے پھر جا کر اپنے حصے کا دودھ پیتے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
