عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ وَلِسَانٌ يَنْطِقُ يَقُولُ إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلاَثَةٍ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَبِكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَبِالْمُصَوِّرِينَ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا وَرَوَى أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurairah narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Some of the Fire (in the shape of a long neck) will come out of the Fire on the Day of judgment. It will have two eyes which can see, two ears which can hear, and a tongue which can speak. It will say: 'I have been left in charge of three: Every obstinate oppressor, everyone who called upon a deity besides Allah, and the image makers." Other chains report similar narrations
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی اس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھیں گی، دو کان ہوں گے جو سنیں گے اور ایک زبان ہو گی جو بولے گی، وہ کہے گی: مجھے تین لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے: ہر سرکش ظالم پر، ہر اس آدمی پر جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارتا ہو، اور مجسمہ بنانے والوں پر“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- بعض لوگوں نے یہ حدیث «عن الأعمش عن عطية عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح روایت کی ہے، ۴- اشعث بن سوار نے بھی «عن عطية عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح روایت کی ہے۔
