عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَالآخَرُ يَحْتَرِفُ فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas bin Malik narrated:"There were two brothers during the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). One of them used to come to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and the other had some business. The businessman among them complained to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) about his brother, so he said:'Perhaps you are provided for because of him
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے، ان میں ایک نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں رہتا تھا اور دوسرا محنت و مزدوری کرتا تھا، محنت و مزدوری کرنے والے نے ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: ”شاید تجھے اسی کی وجہ سے روزی ملتی ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
