عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَاَ عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَعْنِي رَجُلٌ أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوَلاَ تَدْرِي فَلَعَلَّهُ تَكَلَّمَ فِيمَا لاَ يَعْنِيهِ أَوْ بَخِلَ بِمَا لاَ يَنْقُصُهُ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas bin Malik narrated that a man among his companions was dying so he said- meaning a man said to him:"Glad tidings of Paradise." To which the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "You do not know. Perhaps he spoke of what did not concern him or he was greedy with that which would not decrease him
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی کی وفات ہو گئی، ایک آدمی نے کہا: تجھے جنت کی بشارت ہو، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شاید تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے کوئی ایسی بات کہی ہو جو بےفائدہ ہو، یا ایسی چیز کے ساتھ بخل سے کام لیا ہو جس کے خرچ کرنے سے اس کا کچھ نقصان نہ ہوتا“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
