عربی (اصل)
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ " . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ " . قَالَ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Bakrah (may Allah be well pleased with him) narrates that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared: "Shall I not inform you of the gravest of major sins?" The Companions submitted: Certainly, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! He stated: "Associating partners with Allah, disobedience to parents, and false testimony -- or false speech." Hadrat Abu Bakrah (may Allah be well pleased with him) states: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) kept repeating it until we said (to ourselves): We wish he would stop (out of concern for his exertion, blessings and peace of Allah be upon him). Imam Tirmidhi (upon him be mercy) states: This hadith is hasan sahih. There is also a narration on this topic from Hadrat Abdullah bin Amr (may Allah be well pleased with them both).
اردو ترجمہ
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟" صحابہ کرام نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا -- یا جھوٹی بات کہنا"۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس بات کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے (دل میں) کہا: کاش آپ خاموش ہو جاتے (یعنی ہمیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مشقت پر ترس آیا)۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایت ہے۔
