عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ مَرَّ بِشَجَرَةٍ لِلْمُشْرِكِينَ يُقَالُ لَهَا ذَاتُ أَنْوَاطٍ يُعَلِّقُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " سُبْحَانَ اللَّهِ هَذَا كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى : (اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ ) وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَّةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Waqid Al-Laithi narrated that when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went out to Hunain he passed a tree that the idolaters called Dhat Anwat upon which they hung their weapons. They(the Companions) said: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Make a Dhat Anwat for us as they have a Dhat Anwat.' The Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Subhan Allah! This is like what Musa (upon him be peace)'s people said: Make for us a god like their gods. By the One in Whose is my soul! You shall follow the way of those who were before you
اردو ترجمہ
حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حنین کے لیے نکلے تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے ہوا جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، اس درخت پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے ۱؎، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے بھی معبود بنا دیجئیے جیسا ان مشرکوں کے لیے ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم گزشتہ امتوں کی پوری پوری پیروی کرو گے“ ۲؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوواقد لیثی کا نام حارث بن عوف ہے، ۳- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
