عربی (اصل)
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ، - وَهُوَ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ إِنَّ مِنْ آخِرِ مَا عَهِدَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ اتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لاَ يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُثْمَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يَأْخُذَ الْمُؤَذِّنُ عَلَى الأَذَانِ أَجْرًا وَاسْتَحَبُّوا لِلْمُؤَذِّنِ أَنْ يَحْتَسِبَ فِي أَذَانِهِ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Uthman bin Abi Al-As narrated:"Indeed, amount the last (of orders) the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ordered me with was to employ a Hadrat Mu'adh-dhin who would not take a wage for his Adhan
اردو ترجمہ
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے آخری وصیت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ کی کہ ”مؤذن ایسا رکھنا جو اذان کی اجرت نہ لے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اہل علم کے نزدیک عمل اسی پر ہے، انہوں نے مکروہ جانا ہے کہ مؤذن اذان پر اجرت لے اور مستحب قرار دیا ہے کہ مؤذن اذان اجر و ثواب کی نیت سے دے ۱؎۔
