عربی (اصل)
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الإِفْرِيقِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أُؤَذِّنَ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ فَأَذَّنْتُ فَأَرَادَ بِلاَلٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ زِيَادٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الإِفْرِيقِيِّ وَالإِفْرِيقِيُّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ قَالَ أَحْمَدُ لاَ أَكْتُبُ حَدِيثَ الإِفْرِيقِيِّ . قَالَ وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يُقَوِّي أَمْرَهُ وَيَقُولُ هُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ .
انگریزی ترجمہ
Ziyad bin Al-Harith As-Suda'i narrated:"the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ordered me to call the Adhan for the Fajr prayer. I called the Adhan, then Hadrat Bilal wanted to call the lqamah. the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Indeed the brother from Suda' has called the Adhan, and whoever calls the Adhan he calls the Iqamah
اردو ترجمہ
حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فجر کی اذان دینے کا حکم دیا تو میں نے اذان دی، پھر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قبیلہ صداء کے ایک شخص نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی اقامت کہے گا“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایت ہے، ۲- زیاد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کو ہم صرف افریقی کی سند سے جانتے ہیں اور افریقی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے۔ احمد کہتے ہیں: میں افریقی کی حدیث نہیں لکھتا، لیکن میں نے محمد بن اسماعیل کو دیکھا وہ ان کے معاملے کو قوی قرار دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ مقارب الحدیث ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔
