عربی (اصل)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ " أَوْفِ بِنَذْرِكَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ قَالُوا إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ وَعَلَيْهِ نَذْرُ طَاعَةٍ فَلْيَفِ بِهِ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ لاَ اعْتِكَافَ إِلاَّ بِصَوْمٍ . وَقَالَ آخَرُونَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لَيْسَ عَلَى الْمُعْتَكِفِ صَوْمٌ إِلاَّ أَنْ يُوجِبَ عَلَى نَفْسِهِ صَوْمًا . وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ عُمَرَ أَنَّهُ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْوَفَاءِ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) narrates: I submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I had vowed during the era of Jahiliyyah (pre-Islamic ignorance) to perform i'tikaf for one night in al-Masjid al-Haram. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Fulfill your vow." Imam Tirmidhi (upon him be mercy) states: The hadith of Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) is hasan sahih. In this chapter there are also narrations from Hadrat 'Abdullah ibn 'Amr and Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with them). Some scholars follow this hadith and state: When a person embraces Islam and has an outstanding vow of obedience from the era of ignorance, he should fulfill it. Some scholars from the Companions (may Allah be well pleased with them) and others state: There is no i'tikaf without fasting. Other scholars state: Fasting is not obligatory upon the one performing i'tikaf unless he himself made it obligatory. They used as evidence the hadith of Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) that he vowed one night of i'tikaf during the era of ignorance and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) ordered him to fulfill it (without mentioning fasting); this is the view of Ahmad and Ishaq (upon them be mercy).
اردو ترجمہ
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد الحرام میں اعتکاف کروں گا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اپنی نذر پوری کرو"۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ بعض اہل علم اس حدیث کو مسلک بنایا ہے، وہ فرماتے ہیں: جب کوئی اسلام لائے اور اس کے ذمے جاہلیت کی نذرِ طاعت ہو تو وہ اسے پورا کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور دیگر میں سے بعض اہل علم فرماتے ہیں: بغیر روزے کے اعتکاف نہیں ہے۔ دوسرے اہل علم فرماتے ہیں: معتکف پر روزہ واجب نہیں ہے الا یہ کہ وہ خود اپنے اوپر روزہ لازم کرے۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات اعتکاف کی نذر مانی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نذر پوری کرنے کا حکم دیا (اور روزے کا ذکر نہیں فرمایا)، احمد اور اسحاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کا بھی یہی قول ہے۔
