عربی (اصل)
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مَعَهَا مِنْ الْأَنْصَارِ يَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) narrated: 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) used to take Hadrat Umm Sulaim and other Ansari women with him in campaigns; they would provide water and tend to the wounded.' Abu Isa said: In this chapter there is also a narration from Hadrat Ar-Rubayyi bint Mu'awwidh (may Allah be well pleased with her). This is a Hasan Sahih Hadith.
اردو ترجمہ
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بکریاں دیں تاکہ وہ قربانی کے لیے صحابہ کرام کے درمیان تقسیم کر دیں، ایک «عتود» ( بکری کا ایک سال کا فربہ بچہ ) یا «جدي» ۱؎ باقی بچ گیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی خود کر لو“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- وکیع کہتے ہیں: بھیڑ کا جذع، چھ یا سات ماہ کا بچہ ہوتا ہے۔ ۳- عقبہ بن عامر سے دوسری سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے جانور تقسیم کیے، ایک جذعہ باقی بچ گیا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی خود کر لو“۔
