عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالُوا لَهُ أَنْ يُحْيِيَ الأَرْضَ الْمَوَاتَ بِغَيْرِ إِذْنِ السُّلْطَانِ . وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ لَهُ أَنْ يُحْيِيَهَا إِلاَّ بِإِذْنِ السُّلْطَانِ . وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ جَدِّ كَثِيرٍ وَسَمُرَةَ . حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ سَأَلْتُ أَبَا الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيَّ عَنْ قَوْلِهِ " وَلَيْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ " . فَقَالَ الْعِرْقُ الظَّالِمُ الْغَاصِبُ الَّذِي يَأْخُذُ مَا لَيْسَ لَهُ . قُلْتُ هُوَ الرَّجُلُ الَّذِي يَغْرِسُ فِي أَرْضِ غَيْرِهِ قَالَ هُوَ ذَاكَ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Sa'eed bin Zaid that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Whoever revives a barren land then it is for him, and there is no right for the unjust root
اردو ترجمہ
حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے کوئی بنجر زمین ( جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو ) آباد کی تو وہ اسی کی ہے کسی ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز ہے، ۴- بعض علماء کہتے ہیں: حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز نہیں ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، ۵- اس باب میں حضرت جابر، کثیر کے دادا عمرو بن عوف مزنی اور سمرہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۶- ہم سے حضرت ابوموسیٰ محمد بن مثنی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوولید طیالسی سے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قول «وليس لعرق ظالم حق» کا مطلب پوچھا، انہوں نے کہا: «العرق الظالم» سے مراد وہ غاصب ہے جو دوسروں کی چیز زبردستی لے۔ میں نے کہا: اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوسرے کی زمین میں درخت لگائے؟ انہوں نے کہا: وہی شخص مراد ہے۔
