عربی (اصل)
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّرِيكُ شَفِيعٌ وَالشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ . وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً وَهَذَا أَصَحُّ . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَلَيْسَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ مِثْلَ هَذَا لَيْسَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَمْزَةَ . وَأَبُو حَمْزَةَ ثِقَةٌ يُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ الْخَطَأُ مِنْ غَيْرِ أَبِي حَمْزَةَ . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ . وَقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنَّمَا تَكُونُ الشُّفْعَةُ فِي الدُّورِ وَالأَرَضِينَ وَلَمْ يَرَوُا الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ شَيْءٍ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ . وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Ibn Abbas that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "The partner is the preemptor, and preemption is in everything
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ساجھی دار کو حق شفعہ حاصل ہے اور شفعہ ہر چیز میں ہے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- ہم اس حدیث کو اس طرح ( مرفوعاً ) صرف ابوحمزہ سکری ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- اس حدیث کو کئی لوگوں نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور عبدالعزیز نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے مرسلا روایت کیا ہے۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اس سند میں ہناد نے حضرت ابوبکر بن عیاش سے حضرت ابوبکر بن عیاش نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور عبدالعزیز نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، اس میں حضرت ابن عباس کا واسطہ نہیں ہے، ۳- اور اسی طرح کئی اور لوگوں نے عبدالعزیز بن رفیع سے اسی کے مثل حدیث روایت کی ہے اور اس میں بھی حضرت ابن عباس کا واسطہ نہیں ہے، ۴ – ابوحمزہ ( یہ مرفوع ) کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ ابوحمزہ ثقہ ہیں۔ ممکن ہے یہ خطا ابوحمزہ کے علاوہ کسی اور سے ہوئی ہو۔ اس سند میں ھناد نے حضرت ابوالاحوص سے اور حضرت ابوالاحوص نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور عبدالعزیز نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت ابوبکر بن عیاش کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۶ – اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ حق شفعہ کا نفاذ صرف گھر اور زمین میں ہو گا۔ ان لوگوں کی رائے میں شفعہ ہر چیز میں نہیں، ۷- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: شعفہ ہر چیز میں ہے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
