عربی (اصل)
487 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ وَصِلَةُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ الْبَغْدَادِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ مَاسِيُّ الْمَتُّوثِيُّ الْبَزَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ، بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ الْمَعْرُوفُ بِبُكَيْرٍ الْحَدَّادُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُولِيَ مَعْرُوفًا فَلْيُكَافِئْ بِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَذْكُرْهُ فَإِنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ تَشَبَّعَ بِمَا لَمْ يَكُنْ فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»وَفِي رِوَايَةِ الْمَالِينِيِّ وَابْنِ فِرَاسٍ: بِمَا لَمْ يَنَلْ
انگریزی ترجمہ
Whoever has a good deed done to him should repay it; if he is unable, he should mention it (or praise the doer). If he mentions it, he has shown gratitude. And whoever pretends to possess what he was not given is like one who wears garments of falsehood.
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس کے ساتھ کوئی نیکی کی گئی تو اسے چاہیے کہ اس کا بدلہ دے اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھے تو اس (نیکی یا محسن) کا ذکر کرے پھر اگر اس نے اس کا ذکر کیا تو بلاشبہ اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے ایسی چیز کے ساتھ تصنع اور بناوٹ ظاہر کی جو اس کے پاس نہیں تھی تو وہ جھوٹ کا جوڑا زیب تن کرنے والے کی مانند ہے۔“اور مالینی اور ابن خراس رحمہما اللہ کی روایت میں«بما لم ينل»(ایسی چیز کے ساتھ جسے وہ نہیں پہنچا) کے الفاظ ہیں۔[مسند الشهاب/حدیث: 487]
