عربی (اصل)
374 - أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، أنا أَبُو عَبَّادٍ، ذُو النُّونِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ التُّسْتَرِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَامِدٍ الْحَنَفِيُّ، نا عُبَيْدَةُ بْنُ شُبَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقَطُهُ، وَمَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ كَذِبُهُ، وَمَنْ كَثُرَ كَذِبُهُ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ كَانَ النَّارُ أَوْلَى بِهِ»قَالَ: أَبُو أَحْمَدَ: أَحْسَبُ هَذَا الْحَدِيثَ وَهْمًا لِأَنَّ هَذَا الْكَلَامَ إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَلَسْتُ أَحْفَظُهُ مُسْنَدًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ هَذِهِ الْجِهَةِ، فَأَمَّا حَدِيثُ عُمَرَ فَحَدَّثَنَا بِهِ ابنُ دُرَيْدٍ، نا الْحَسَنُ بْنُ نَصْرٍ، نا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، نا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْأَحْنَفِ هُوَ ابْنُ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: يَا أَحْنَفُ، مَنْ كَثُرَ ضَحِكُهُ قَلَّتْ هَيْبَتُهُ، وَمَنْ فَرِحَ اسْتُخِفَّ بِهِ، وَمَنْ أَكْثَرَ مِنْ شَيْءٍ عُرِفَ بِهِ، وَمَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقَطُهُ، وَمَنْ كَثُرَ سَقَطُهُ قَلَّ حَيَاؤُهُ، وَمَنْ قَلَّ حَيَاؤُهُ قَلَّ وَرَعُهُ، وَمَنْ قَلَّ وَرَعُهُ مَاتَ فَلْتَةً"
انگریزی ترجمہ
Whoever speaks much, his mistakes will be many; whoever speaks much, his lying will be much; whoever's lying is much, his sins will be many; and whoever's sins are many, the Fire is more deserving of him.
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جس کی گفتگو زیادہ ہوگی اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی گفتگو زیادہ ہوگی اس کا جھوٹ بھی زیادہ ہوگا اور جس کا جھوٹ زیادہ ہوگا اس کے گناہ بھی زیادہ ہوں گے اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے وہ دوزخ کا زیادہ مستحق ہے۔“ابواحمد نے کہا: میں اس حدیث کو وہم سمجھتا ہوں، کیونکہ یہ بات صرف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے۔ میں نے اسے نبیصلی اللہ علیہ وسلمسے صرف اسی سند کے ساتھ حفظ کیا ہے۔ باقی رہی حدیث عمر، تو ہمیں وہ ابن درید نے اپنی سند کے ساتھ احنف بن قیس سے بیان کی، انہوں نے کہا کہ مجھے عمر نے کہا: اے احنف! جس کا ہنسنا زیادہ ہو جائے اس کی ہیبت کم ہو جاتی ہے اور جو اترانا شروع کردے وہ حقیر سمجھا جانے لگتا ہے اور جو کسی چیز کی کثرت کرتا ہے وہ اسی کے ساتھ معروف ہوتا ہے۔ اور جو زیادہ گفتگو کرے اس کی غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں اور جس کی غلطیاں زیادہ ہوں اس کی حیا کم ہوگی اور جس کی حیا کم ہو اس کا تقویٰ کم ہوگا اور جس کا تقویٰ کم ہو اس کا دل مر جاوا اور اس کی موت اچانک آئے۔[مسند الشهاب/حدیث: 374]
