عربی (اصل)
1381 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، نا يُوسُفُ هُوَ ابْنُ يَعْقُوبَ، نا مُسْلِمٌ، نا أَبَانُ، نا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْكِ إِنْ لَمْ يُصِبْكَ مِنْهُ شَيْءٌ أَصَابَكَ مِنْ رِيحِهِ، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السُّوءِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْكِيرِ إِنْ لَمْ يُصِبْكَ مِنْ ثَوَابِهِ أَصَابَكَ مِنْ دُخَانِهِ»
انگریزی ترجمہ
Anas (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, the parable of a believer who recites the Quran is like that of a citron—its scent is fragrant and its taste is good. The parable of a believer who does not recite the Quran is like that of a date—it has no scent but its taste is sweet. The parable of a hypocrite who recites the Quran is like that of basil—its scent is fragrant but its taste is bitter. And the parable of a hypocrite who does not recite the Quran is like that of a colocynth—it has no scent and its taste is bitter."
اردو ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ترنج کی مانند ہے جس کی خوشبو بھی عمدہ اور ذائقہ بھی اچھا۔ اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی مانند ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن خوشبو نہیں ہوتی۔ اور اس نافرمان کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی مانند ہے جس کی خوشبو عمدہ لیکن ذائقہ کڑوا۔ اور اس نافرمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا حنظل (اندرائن) کی مانند ہے جس کا ذائقہ کڑوا اور خوشبو بھی ندارد۔ اور اچھے ساتھی کی مثال کستوری والے کی مانند ہے اگر تمہیں اس سے کچھ بھی نہ ملے تو اس کی خوشبو تجھے (ضرور) پہنچے گی اور برے ساتھی کی مثال بھٹی دھونکنے والے کی مانند ہے اگر تجھے اسے پہنچنے والی تکلیف میں سے کچھ بھی نہ پہنچے تو دھواں (ضرور) پہنچے گا۔“[مسند الشهاب/حدیث: 1381]
