عربی (اصل)
1368 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ، نا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا مِثْلُ الْمُسْلِمِينَ فِي تَوَاصُلِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَالَّذِي جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا وَجِعَ بَعْضُهُمْ وَجِعَ كُلُّهُ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى»
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (peace be upon him) that he said: "Do you know what the parable of a Muslim is? It is like a green plant—sometimes the wind tilts it, sometimes it straightens it, until its term comes. The parable of a disbeliever is like a cedar tree—it stands erect until it is cut down at once when its time comes."
اردو ترجمہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بلاشبہ مسلمانوں کا آپس میں تعلق قائم رکھنے اور رحمت و مہربانی کرنے میں اور (اس چیز میں) جو اللہ نے ان کے درمیان مقرر کر دی ہے مثال جسم کی مانند ہے جب اس کا کوئی حصہ تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“[مسند الشهاب/حدیث: 1368]
