عربی (اصل)
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.
انگریزی ترجمہ
A’isha said:"‘Ashura' was a day on which Quraish used to fast in the pagan era Ramadan became the obligatory religious duty, and 'Ashura' was omitted, so one is free to fast this day or not to fast it.”
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: عاشوراء کا دن ایسا تھا جس میں قریش جاہلیت میں روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے۔ جب مدینہ تشریف لائے تو اس دن روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیا۔ پھر جب رمضان فرض ہوا تو رمضان فریضہ ٹھہرا اور عاشوراء چھوڑ دیا گیا۔ جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
