عربی (اصل)
نَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ السُّدِّيِّ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ سورة الأعراف آية 24 قَالَ:" آدَمُ وَحَوَّاءُ وَالْحَيَّةُ، حَيْثُمَا أَدْرَكَهَا ابْنُ آدَمَ قَتَلَهَا، وَحَيْثُمَا أَدْرَكَتِ ابْنَ آدَمَ أَخَذَتْ بِعَضُدِهِ".
انگریزی ترجمہ
Al-Suddi (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'Get down, some of you being enemies to others, and you shall have on earth a dwelling place and provision for a time' (al-A'raf: 24) — He said: 'This refers to Adam, Hawwa (Eve), and the serpent. Wherever the son of Adam finds the serpent, he kills it, and wherever the serpent finds the son of Adam, it bites his arm.'
اردو ترجمہ
حسن بن یزید رحمہ اللہ نے سدی رحمہ اللہ سے روایت کی کہ اللہ عزوجل کے فرمان﴿اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام ہیں، اور سانپ بھی ان کے دشمنوں میں سے ہے۔ جہاں بھی ابن آدم کو سانپ ملے گا، وہ اسے مار ڈالے گا، اور جہاں بھی سانپ ابن آدم کو پائے گا، وہ اس کے بازو کو پکڑ لے گا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 943]
