عربی (اصل)
نَا نَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللِّهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ:" إِنَّاللَّهَ فَرَضَ عَلَى الأَغْنِيَاءِ فِي أَمْوَالِهِمْ بِقَدْرِ مَا يَكْفِي فُقَرَاءَهُمْ، فَإِنْ جَاعُوا، أَوْ عُرُّوا، أَوْ جُهِدُوا فَبِمَنْعِ الأَغْنِيَاءِ، وَحَقَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُحَاسِبَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُعَذِّبَهُمْ عَلَيْهِ".
انگریزی ترجمہ
Abu al-Aliyah (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'They have hearts with which they do not understand, they have eyes with which they do not see, and they have ears with which they do not hear' (al-A'raf: 179) — He said: 'They do not use them to seek goodness.'
اردو ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: بے شک اللہ عزوجل نے مالداروں پر ان کے مالوں میں اتنا حق فرض کیا ہے جو ان کے فقراء کی کفالت کے لیے کافی ہو، پس اگر فقراء بھوکے رہیں، ننگے ہوں یا مشقت میں پڑیں تو یہ مالداروں کی جانب سے حق روکنے کی وجہ سے ہے، اور اللہ عزوجل پر لازم ہے کہ قیامت کے دن ان مالداروں کا حساب لے اور انہیں اس پر عذاب دے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 931]
