عربی (اصل)
ناعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْخَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ أَبَاهُزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ, قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَشِيَتْهُ السَّكِينَةُ، فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي،فَمَا وَجَدْتُ ثِقَلَ شَيْءٍ أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ:" اكْتُبْ"، فَكَتَبْتُ فِي كَتِفٍ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة النساء آية 95 , إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَ رَجُلا أَعْمَى لَمَّا سَمِعَ فَضِيلَةَ الْمُجَاهِدِينَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ لا يَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ خَارِجَةُ: قَالَ زَيْدٌ: فَلَمَّا قَضَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ كَلامَهُ غَشِيَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ، فَوَقَعَتْ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ كَمَا وَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا فِي الْمَرَّةِ الأُولَى، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اقْرَأْ يَا زَيْدُ"، فَقَرَأْتُ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95" الآيَةَ كُلَّهَا , قَالَ: يَقُولُ زَيْدٌ: أَنْزَلَهَا اللَّهُ وَحْدَهَا، فَأَلْحَقْتُهَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُلْحَقِهَا عِنْدَ صَدْعٍ فِي الْكَتِفِ.
انگریزی ترجمہ
Zayd ibn Thabit (may Allah be pleased with him) said: 'I was next to the Messenger of Allah (peace be upon him) when divine tranquility descended upon him. His thigh fell on my thigh, and I never felt anything heavier than the thigh of the Messenger of Allah. Then it was lifted from him, and he said: "Write." So I wrote on a shoulder bone: "Not equal are those believers who sit at home—other than those with disabilities—and the mujahidun who strive in the cause of Allah" (al-Nisa: 95). Then Ibn Umm Maktum, a blind man, stood up when he heard about the virtue of the mujahidun and said: O Messenger of Allah, what about those among the believers who cannot fight? Zayd said: When Ibn Umm Maktum finished speaking, divine tranquility descended upon the Prophet again, and his thigh fell on my thigh with the same weight as before. Then it was lifted, and he said: "Read, O Zayd." So I read: "Not equal are those believers who sit..." Then the Prophet said: "other than those with disabilities" (al-Nisa: 95)—the entire verse. Zayd said: Allah revealed this phrase separately, so I added it. By the One in Whose hand is my soul, I can almost see the spot where I added it—at the crack in the shoulder bone.'
اردو ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمپر سکینہ نازل ہوئی اور آپ کی ران میری ران پر آ گری، میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکی ران سے زیادہ بھاری چیز کبھی محسوس نہ کی، پھر جب سکینہ ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: لکھو، چنانچہ میں نے ایک کندھے کی ہڈی پر یہ آیت لکھی:﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾آیت کے آخر تک، تو ابن ام مکتوم جو نابینا تھے کھڑے ہوئے اور جب انہوں نے مجاہدین کی فضیلت سنی تو عرض کیا: یا رسول اللہ! ان مومنوں کا کیا جنہیں جہاد کی طاقت نہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ابن ام مکتوم نے اپنی بات مکمل کی تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمپر پھر سکینہ نازل ہوئی اور آپ کی ران دوبارہ میری ران پر آ گری، میں نے اس دفعہ بھی اتنا ہی بوجھ محسوس کیا جتنا پہلی بار، پھر جب وہ ختم ہوئی تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: اے زید! پڑھو، تو میں نے پڑھا:﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾پوری آیت، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ جملہ اللہ نے علیحدہ نازل کیا تھا، تو میں نے اس کو ملایا، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، گویا میں اس کے ملائے جانے کو اس جگہ کے شگاف میں دیکھ رہا ہوں جہاں میں نے اسے کندھے کی ہڈی پر لکھا تھا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 681]
