عربی (اصل)
ناسُفْيَانُ، عَنْعَمْرٍو، عَنْطَاوُسٍ، قَالَ: أَمَرَ عُمَرُ حَفْصَةَ أَنْ تَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،عَنِ الْكَلالَةِ، فَأَمْهَلَتْهُ، حَتَّى إِذَا لَبِسَ ثِيَابَهُ، سَأَلَتْهُ عَنْهَا، فَأَمْلاهَا عَلَيْهَا، وَقَالَ:" مَنْ أَمَرَكِ بِهَذَا، أَعُمَرُ؟ مَا أَظُنُّ أَنْ يَفْهَمَهَا، أَوَلَمْ تَكْفِهِ آيَةُ الصَّيْفِ؟"، قَالَ سُفْيَانُ: وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً سورة النساء آية 12، فَلَمْ يَفْهَمْهَا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ مَنْ فَهِمَهَا، فَإِنِّي لَمْ أَفْهَمْهَا.
انگریزی ترجمہ
Mujahid (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'O you who have believed, do not consume one another's wealth unjustly' (al-Nisa: 29): This prohibits all forms of unlawful gain, whether through usury, fraud, or deception.
اردو ترجمہ
طاووس رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے کلالہ کے بارے میں سوال کریں۔ چنانچہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کچھ دیر انتظار کیا، یہاں تک کہ جب آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے کپڑے زیب تن کر لیے تو انہوں نے سوال کیا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان پر یہ حکم بیان کیا اور فرمایا:”تمہیں اس کے بارے میں سوال کرنے کا کس نے کہا؟ کیا عمر نے؟ میں نہیں سمجھتا کہ وہ اسے سمجھ سکیں گے۔ کیا ان کے لیے آیتِ صیف یعنی کلالہ کے بارے میں نازل شدہ آیت کافی نہیں؟“سفیان رحمہ اللہ نے کہا: وہ آیت یہ ہے﴿وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً﴾لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے نہیں سمجھ سکے اور دعا کی:”اے اللہ! جسے تو سمجھائے، وہ سمجھ لے، کیونکہ میں تو نہیں سمجھ سکا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 587]
