عربی (اصل)
ناجَرِيرٌ، عَنْمَنْصُورٍ، عَنْأَبِي الضُّحَى، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْتَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ نَهَى عَنِ التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ".
انگریزی ترجمہ
Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: When the verses about usury at the end of Surah al-Baqarah were revealed, the Messenger of Allah (peace be upon him) went out, recited them to the people, and then prohibited trading in wine.
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سورہ البقرہ کے آخر میں سود کے بارے میں آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمباہر تشریف لائے اور ان آیات کی تلاوت لوگوں کو سنائی، پھر شراب کی تجارت سے منع فرما دیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 450]
