عربی (اصل)
نا ناهُشَيْمٌ، قَالَ: ناالْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: ناإِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، قَالَ: خَلا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ذَاتَ يَومٍ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ، فأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:كَيْفَ تَخْتَلِفُ هَذِهِ الأُمَّةُ وَنبِيُّهَا وَاحِدٌ، وَكِتَابُهَا وَاحِدٌ وَقِبْلَتُهَا؟، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ،" إِنَّا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْقُرْآنُ، فَقَرَأْنَاهُ وَعَلِمْنَا فِيمَ أُنْزِلَ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدَنَا أَقْوَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَلا يَعْرِفُونَ فِيمَ نُزِّلَ، فَيَكُونُ لِكُلِّ قَوْمٍ فِيهِ رَأْيٌ، فَإِذَا كَانَ لِكُلِّ قَوْمٍ فِيهِ رَأْيٌ اخْتَلَفُوا، فَإِذَا اخْتَلَفُوا اقْتَتَلُوا، فَزَبَرَهُ عُمَرُ وَانْتَهَرهُ، فَانْصَرَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ، ثُمَّ دَعَاهُ بَعْدُ فَعَرَفَ الَّذِي قَالَ: ثُمَّ قَالَ: إِيهٍ أَعِدْ عَلَيَّ".
انگریزی ترجمہ
'Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) was alone one day, reflecting to himself. He sent for Ibn 'Abbas and asked: "How will this nation differ when its Prophet is one, its Book is one, and its direction of prayer is one?" Ibn 'Abbas replied: "O Commander of the Believers, the Quran was revealed to us, so we recited it and knew the context in which it was revealed. But after us there will come people who will recite the Quran without knowing why it was revealed. Each group will form its own opinion about it, and when each group has its own opinion, they will differ, and when they differ, they will fight." 'Umar rebuked him and sent him away. Then later he called him back, recognized the truth of what he had said, and told him: "Go on, repeat it to me."
اردو ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن تنہائی میں خود سے گفتگو کر رہے تھے، تو انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بلایا اور پوچھا:”یہ امت اختلاف کیسے کرے گی، جب کہ اس کا نبی ایک ہے، اس کی کتاب ایک ہے اور اس کا قبلہ بھی ایک ہے؟“سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا:”اے امیر المؤمنین! ہم پر قرآن نازل ہوا، ہم نے اسے پڑھا اور جانا کہ یہ کن امور کے بارے میں نازل ہوا ہے، لیکن ہمارے بعد ایسی قومیں آئیں گی جو قرآن تو پڑھیں گی مگر نہیں جانیں گی کہ وہ کن اسباب کے تحت نازل ہوا ہے، تو ہر قوم اس میں اپنی اپنی رائے قائم کرے گی، اور جب ہر قوم کی ایک الگ رائے ہوگی، تو وہ باہم اختلاف کریں گے، اور جب اختلاف بڑھ جائے گا تو وہ آپس میں قتال کریں گے۔“یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور سخت لہجے میں بات کی، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما واپس چلے گئے۔ بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دوبارہ بلایا، ان کی بات کو سمجھا اور فرمایا:”اچھا، وہی بات دوبارہ دہرا دو۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 42]
