عربی (اصل)
نا نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَعُثْمَانَفِي الدَّارِ، فَقَالَ:" عَزَمْتُ عَلَى كُلِّ مَنْ رَأَى لِي سَمْعًا وَطَاعَةً إِلا كَفَّ يَدَهُ وَسِلاحَهُ، إِنَّ أَفْضَلَكُمْ عَنَّا مَنْ كَفَّ سِلاحَهُ، وَيَدَهُ، قُمْ يَا ابْنَ عُمَرَ فَاحْجِزْ بَيْنَ النَّاسِ"، فَقَامَ ابْنُ عُمَرَ، وَقَامَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ بَنِي عَدِيٍّ، وَبَنِي نُعَيْمٍ، وَبَنِي مُطِيعٍ فَفَتَحُوا الْباب فَخَرَجَ، فَدَخَلَ النَّاسُ، فَقَتَلُوا عُثْمَانَ.
انگریزی ترجمہ
Ibrahim (may Allah have mercy on him) narrated 'Umar's instructions on how to set up military camps.
اردو ترجمہ
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”میں ہر اس شخص کو قسم دیتا ہوں جو میری سمع و طاعت رکھتا ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اور ہتھیار روکے رکھے۔ تم میں بہترین وہ ہے جو ہاتھ اور ہتھیار روک لے۔“پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرمایا:”لوگوں کے درمیان حائل ہو جاؤ۔“چنانچہ انہوں نے دروازہ کھولا اور لوگ اندر گھس آئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4121]
