عربی (اصل)
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ لَقِيطٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هَدَمٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ:" مَا تَرَوْنَ فِي نَفَرٍ ثَلاثَةٍ أَسْلَمُوا جَمِيعًا وَهَاجَرُوا جَمِيعًا، لَمْ يُحْدِثُوا فِي الإِسْلامِ حَدَثًا، قَتَلَ أَحَدَهُمُ الطَّاعُونُ، وَقَتَلَ الآخَرَ الْبَطْنُ، وَقُتِلَ الآخَرُ شَهِيدًا". قَالُوا: الشَّهِيدُ أَفْضَلُهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لَرُفَقَاءُ فِي الآخِرَةِ، كَمَا كَانُوا رُفَقَاءَ فِي الدُّنْيَا".
انگریزی ترجمہ
'Umar (may Allah be pleased with him) wrote conditions for the dhimmis regarding their behavior and dress to distinguish them from Muslims.
اردو ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”تین آدمی جو اکٹھے اسلام لائے، اکٹھے ہجرت کی، نہ کوئی فتنہ کیا، ان میں ایک طاعون سے مرا، ایک پیٹ کے مرض سے اور ایک شہید ہوا۔“لوگوں نے کہا: شہید افضل ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”نہیں، وہ تینوں جنت میں اکٹھے ہوں گے جیسے دنیا میں اکٹھے تھے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4020]
