عربی (اصل)
نا نا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: نا أَبُو حَرِيزٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَعَانَ أَهْلُ مَاهَ أَهْلَ جَلُولاءَ عَلَى الْعَرَبِ، وَأَصَابُوا سَبَايَا مِنْ سَبَايَا الْعَرَبِ، وَرَقِيقًا، وَمَتَاعًا، ثُمَّ إِنَّ السَّائِبَ بْنَ الأَقْرَعِ عَامِلَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ غَزَاهُمْ، فَفَتَحَ مَاهَ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ فِي سَبَايَا الْمُسْلِمِينَ وَرَقِيقِهِمْ، وَمَتَاعِهِمْ قَدِ اشْتَرَاهُ التُّجَّارُ مِنْ أَهْلِ مَاهَ، وَفِي رَجُلٍ أَصَابَ كَنْزًا بِأَرْضٍ بَيْضَاءَ، فَكَتَبَعُمَرُ:" أَنَّالْمُسْلِمَ أَخُو الْمُسْلِمِ لا يَخُونُهُ وَلا يَخْذُلُهُ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَصَابَ رَقِيقَهُ وَمَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ، وَإِنْ أَصَابَهُ فِي أَيْدِي التُّجَّارِ بَعْدَمَا اقْتُسِمَ فَلا سَبِيلَ إِلَيْهِ، وَأَيُّمَا حُرٍّ اشْتَرَاهُ التُّجَّارُ فَإِنَّهُ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ رُءُوسُ أَمْوَالِهِمْ، وَأَنَّ الْحُرَّ لا يُبَاعُ وَلا يُشْتَرَى، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَصَابَ كَنْزًا عَادِيًا قَبْلَ أَنْ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا، فَإِنَّهُ يُؤْخَذُ مِنْهُ خُمُسُهُ وَسَائِرُهُ بَيْنَهُمْ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، وَإِنْ أَصَابَهُ بَعْدَ مَا وَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا فَخُذْ خُمُسَهُ وَسَائِرُهُ لَهُ خَاصَّةً".
انگریزی ترجمہ
The Prophet (peace be upon him) distributed the lands of Khaybar among the fighters.
اردو ترجمہ
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اہلِ ماہ نے عربوں پر حملہ کیا، ان کے غلام اور سامان کو قیدی بنایا، پھر سیدنا سائب بن الاقرع نے ان پر حملہ کیا، اور عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:”جو مسلمان اپنا مال بعینہ پائے، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے، اگر تاجروں کے ہاتھ سے بعد تقسیم ملے تو کوئی حق نہیں، اور جو تاجر کسی آزاد مسلمان کو خریدے، تو ان کی رقم لوٹائی جائے، کیونکہ آزاد آدمی نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ خریدا، اور جو مال جنگ ختم ہونے سے پہلے حاصل ہو، اس کا خمس نکالا جائے، اور باقی مال تقسیم ہو، اور جو مال جنگ کے بعد حاصل ہو، وہ مالک کا ہوگا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3979]
