عربی (اصل)
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَةَ قَرَظَةَ امْرَأَةَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَرْسَلَتْ إِلَى مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنْيُجِيزَ، عَجِينًا لِمَوْلًى لَهُمْ فِي الْمَقَاسِمِ، فَلَمَّا عَرَضَهُ، قَالَ:" تُرِيدُونِي عَلَى أَنْ أُجِيزَ هَذَا؟ لا أُجِيزُهُ أَبَدًا".
انگریزی ترجمہ
Ibrahim (may Allah have mercy on him) said the same — that slaves receive no share but may receive a bonus from the commander.
اردو ترجمہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے فرمایا: بنت قرظہ نے، جو سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی بیوی تھیں، مالک بن عبداللہ کے پاس اپنے غلام کے لیے خچری نسل کے گھوڑے کا حصہ دلوانے کی سفارش بھیجی، تو جب وہ گھوڑا پیش کیا گیا، تو انہوں نے کہا:”کیا تم مجھے اس کی منظوری پر مجبور کرتے ہو؟ میں اسے کبھی منظور نہیں کروں گا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3955]
