عربی (اصل)
نا نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: نا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ سُرَاقَةَ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، كَتَبَ لأَهْلِ دَيْرِ طَيَايَا:" هَذَا كِتَابٌ مِنْ أَبِي عُبَيْدَةَ لأَهْلِ دَيْرِ طَيَايَا: إِنِّي" قَدْأَمَّنْتُكُمْ عَلَى دِمَائِكُمْ، وَأَمْوَالِكُمْ، وَكَنَائِسَكُمْ أَنْ تُسْكَنَ أَوْ تُخَرَّبَ مَا لَمْ تُحْدِثُوا، أَوْ تَأْوُوا مُحْدِثًا مَغِيلَهُ، فَإِذَا أَنْتُمْ أَحْدَثْتُمْ أَوْ آوَيْتُمْ مُحْدِثًا مَغِيلَهُ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْكُمُ الذِّمَّةُ، وَإِنَّ عَلَيْكُمْ إِقْرَاءَ الضَّيْفِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، وَإِنَّ ذِمَّتَنَا بَرِيَّةٌ مِنْ مَعَرَّةِ الْجَيْشِ". شَهِدَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَشُرَحْبِيلُ ابْنُ حَسَنَةَ، وَقُضَاعِيُّ بْنُ عَامِرٍ.
انگریزی ترجمہ
Abu 'Ubaydah ibn al-Jarrah (may Allah be pleased with him) wrote to the people of Dayr Tayaya: "This is a letter from Abu 'Ubaydah to the people of Dayr Tayaya: I have granted you safety for your lives, your wealth, and your churches — neither your homes shall be entered by force nor your churches demolished, as long as you do not cause new corruption or shelter troublemakers."
اردو ترجمہ
سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے اہل دیر طیاء کے لیے لکھا:”یہ ابو عبیدہ کی طرف سے اہل دیر طیاء کے لیے ہے کہ میں نے تمہیں تمہاری جانوں، مالوں اور گرجا گھروں پر امان دی ہے کہ نہ رہائش میں دخل دیا جائے گا اور نہ گرجا گھر گرائے جائیں گے جب تک کہ تم کوئی نیا فساد نہ کرو یا کسی فسادی کو پناہ نہ دو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو ذمّیت ختم ہو جائے گی۔ اور تم پر لازم ہے کہ مہمان کی تین دن تک مہمان نوازی کرو۔ اور ہماری ذمّیت فوج کے ظلم سے پاک ہے۔“گواہی دی: خالد بن ولید، یزید بن ابی سفیان، شرحبیل بن حسنہ اور قضاعی بن عامر۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3782]
