عربی (اصل)
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سُئِلَعَبْدُ اللَّهِعَنْ قَوْلِهِ:" وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سورة آل عمران آية 169، قَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَرْوَاحُهُمْ كَطَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذِ اطَّلَعَ عَلَيْهِمُ اطِّلاعَةً، فَقَالَ: سَلُونِي مَا شِئْتُمْ: قَالُوا: يَا رَبَّنَا مَاذَا نَسْأَلُكَ وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ فِي أَيِّهَا شِئْنَا، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ اطِّلاعَةً فَقَالَ: سَلُونِي مَا شِئْتُمْ، فَقَالُوا: يَا رَبَّنَا مَاذَا نَسْأَلُكَ وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ فِي أَيِّهَا شِئْنَا، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَمْ يَتْرُكُوا أَنْ يَسْأَلُوا، قَالُوا: نَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُمْ لا يَسْأَلُونَ إِلا هَذَا تُرِكُوا".
انگریزی ترجمہ
Masruq reported that 'Abdullah (ibn Mas'ud) was asked about the verse: "And do not think of those killed in the cause of Allah as dead; rather, they are alive with their Lord, receiving provision" [Al 'Imran: 169]. He said: "We asked about this, and were told: 'Their souls are in green birds that roam freely in Paradise, then perch in lanterns hanging from the Throne.' Allah looked upon them and said: 'Ask Me for whatever you wish.' They said: 'Our Lord, what more can we ask for when we roam Paradise as we please?' When they realized they must ask for something, they said: 'We ask You to return our souls to our bodies in the world so that we may be killed in Your cause again.' When He saw they asked for nothing else, they were left in their state."
اردو ترجمہ
سیدنا مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے آیت«ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء»[آل عمران: 169]کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا: ہم نے اس بارے میں سوال کیا تھا، تو کہا گیا:”ان کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں جنت میں جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی ہیں، اور عرش سے لٹکتے قندیلوں میں ٹھہرتی ہیں۔“پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا:”مانگو جو چاہو۔“انہوں نے کہا:”اے رب! ہم اور کیا مانگیں حالانکہ ہم جنت میں سیر کر رہے ہیں۔“پھر انہوں نے عرض کیا:”ہماری روحیں ہمارے جسموں میں واپس کر دے تاکہ ہم پھر تیری راہ میں قتل ہوں۔“جب اللہ نے دیکھا کہ وہ اور کچھ نہیں مانگتے تو انہیں اسی حال پر چھوڑ دیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3736]
