عربی (اصل)
نا نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنَّا فِي جَيْشٍ فِي أَرْضِ الرُّومِ، وَمَعَنَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، وَعَلَيْنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، فَشَرِبَ الْخَمْرَ، فَأَرَدْنَا أَنَّ نُحِدَّهُ، قَالَ:حُذَيْفَةُ:" أَتُحِدُّونَ أَمِيرَكُمْ؟ وَقَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ فَيَطْمَعُونَ فِيكُمْ"، فَبَلَغَهُ، فَقَالَ: لأَشْرَبَنَّ وَإِنْ كَانَتْ مُحَرَّمَةً، وَلأَشْرَبَنَّ عَلَى رَغْمِ مَنْ رَغِمَ.
انگریزی ترجمہ
Hudhayfah ibn al-Yaman (may Allah be pleased with him) said: "We were in an army in the land of the Romans, and al-Walid ibn 'Uqbah was our commander. He drank wine, and we wanted to impose the prescribed punishment on him. Hudhayfah said: 'Would you punish your commander while you are close to the enemy, thereby emboldening them against you?' When al-Walid heard this, he said: 'I will drink it even if it is forbidden, and I will drink it in spite of whoever disapproves.'"
اردو ترجمہ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما نے فرمایا:”ہم روم کی سرزمین میں ایک لشکر میں تھے اور ہم پر ولید بن عقبہ امیر تھے، اس نے شراب پی، ہم اسے حد دینا چاہتے تھے، تو میں نے فرمایا: کیا تم اپنے امیر پر حد قائم کرو گے جبکہ تم اپنے دشمن کے قریب ہو، تو وہ تم پر طمع کریں گے؟“جب ولید کو یہ بات پہنچی تو اس نے کہا:”میں تو ضرور پیوں گا اگرچہ یہ حرام ہو، اور ان کی ناک رگڑ کر پیوں گا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3678]
