عربی (اصل)
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ فِي:" الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ إِنْ مَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ وَرِثَتْهُ"، فَقَالَ لَهُ ابْنُ شُبْرُمَةَ: أَرَأَيْتَ إِنِ انْقَضَتِ الْعِدَّةُ أَتَتَزَوَّجُ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَإِنْ هَذَا مَاتَ، وَمَاتَ الأَوَّلُ أَتَرِثُ زَوْجَيْنِ؟ قَالَ:" لا"، رَجَعَ إِلَى الْعِدَّةِ، قَالَ:" تَرِثُهُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ".
انگریزی ترجمہ
Abu Hashim said regarding a man who divorces his wife while ill: "If he dies during that illness, she inherits from him." Ibn Shubrumah asked: "If her waiting period ends, can she remarry?" He said: "Yes." He asked: "If both (the new husband and the first) die, does she inherit from two husbands?" He said: "No," and returned to the position that she inherits as long as she is in the waiting period.
اردو ترجمہ
ابو ہاشم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بیماری کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے اور اس بیماری میں مر جائے تو بیوی اس کی وارث ہو گی، ابن شبرمہ نے کہا:”اگر عدت پوری ہو جائے تو کیا وہ کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے؟“کہا:”ہاں۔“تو پوچھا:”اگر دوسرا شوہر مر جائے تو کیا دونوں کا وارث بنے گی؟“کہا:”نہیں، عدت ہی معیار ہے، جب تک عدت میں ہو گی وراثت پائے گی۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3140]
