عربی (اصل)
نا نا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ فِيمَا جَاءَ بِهِ عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ مِنْ عِنْدِعُمَرَإِلَى شُرَيْحٍ:" فِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعُ ثَمَنِهَا، وَالأَصَابِعُ سَوَاءٌ، وَجِرَاحَاتُ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ سَوَاءٌ إِلا السِّنَّ وَالْمُوضِحَةَ، وَخَيْرُ أَحْيَانِ الرَّجُلِ أَنْ يَصْدُقَ بِاعْتِرَافِهِ بِوَلَدِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا، وَرِثَتْهُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ".
انگریزی ترجمہ
Ibrahim narrated that 'Urwah al-Bariqi brought the following instructions from 'Umar to Shurayh: "The eye of an animal is worth one-quarter of its price; fingers are equal (in compensation); injuries of men and women are equal except for the tooth and the head wound — for those beyond that, women receive half. The most rightful time for a man to be truthful about his acknowledgment of a child is at the time of his death. And if a man divorces his wife three times, she inherits from him as long as she is in the waiting period."
اردو ترجمہ
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عروہ بارقی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے شریح کے پاس یہ حکم لے کر آئے کہ جانور کی آنکھ ضائع ہو جائے تو اس کا چوتھائی قیمت دیا جائے، انگلیاں سب برابر ہیں، مرد و عورت کے زخموں کا حکم برابر ہے، سوائے دانت اور ہڈی کے زخم کے، اور بہترین حالت آدمی کی یہ ہے کہ مرتے وقت اپنے بچے کا اعتراف کرے، اور اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو وہ عدت کے اندر اس کی وارث ہوتی ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3138]
