عربی (اصل)
نا نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا وَاحِدَةً فَهِيَ وَاحِدَةٌ، أَوِ اثْنَيْنِ فَثِنْتَيْنِ، أَوْ ثَلاثًا فَثَلاثٌ، إِلا أَنْ يُنَاكِرَهَا , وَيَقُولُ: لَمْ أَجْعَلِ الأَمْرَ إِلَيْكِ إِلا فِي وَاحِدَةٍ فَيَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ، وَإِنْ رَدَّتِ الأَمْرَ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَكَانَ يَقُولُ: الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ".
انگریزی ترجمہ
Ibn 'Umar said: "If a man places his wife's matter in her hands and she divorces herself once, it is one. If two, then two. If three, then three — unless he disputes her and says 'I only gave you the authority for one,' and swears to that. If she returns the matter, it is nothing." And he used to say: "The ruling is whatever she decided."
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:”جب مرد اپنی بیوی کو اختیار دے دے اور وہ ایک طلاق دے تو ایک ہی طلاق ہو گی، دو دے تو دو اور تین دے تو تین، الا یہ کہ مرد انکار کرے اور کہے کہ میں نے صرف ایک طلاق کا اختیار دیا تھا، تو پھر قسم اٹھائے، اور اگر عورت معاملہ لوٹا دے تو کچھ نہیں۔“اور وہ فرماتے تھے:”فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کیا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2798]
