عربی (اصل)
نَاالْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الأَصَمُّ، قَالَ: سَمِعْتُالسُّدِّيَّ، يُحَدِّثُ عَنْأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْعَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّعَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ. فَقَالَ لِي:" اذْهَبْ فَوَارِهِ، ثُمَّ لا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي". فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِيَ بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ وَسُودَهَا , وَكَانَ عَلِيٌّ إِذًا غَسَّلَ الْمَيِّتَ".
انگریزی ترجمہ
Ali (may Allah be pleased with him) said: When Abu Talib died, I came to the Prophet (peace be upon him) and said: Your uncle, the old man, has died. He said: 'Go and bury him, then do not do anything else until you come to me.' So I washed him, then came to the Prophet (peace be upon him), who supplicated for me with prayers that I would not exchange for red and black camels. And Ali used to perform ghusl (full bathing) whenever he washed a deceased person.
اردو ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب ابوطالب فوت ہو گئے تو میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا اور عرض کیا: آپ کا چچا، وہ بزرگ، فوت ہو گیا ہے! تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: جاؤ، اسے دفن کر دو، پھر کوئی نیا کام نہ کرنا جب تک میرے پاس نہ آ جاؤ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسے غسل دیا، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے میرے لیے کچھ دعائیں کیں، اور مجھے یہ اتنا محبوب ہوا کہ کاش میرے لیے ان دعاؤں کے بدلے سرخ اور سیاہ اونٹ بھی ہوتے۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب میت کو غسل دیتے تو خود بھی غسل کیا کرتے تھے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1042]
