عربی (اصل)
وعن أبى مريم الأزدى رضي الله عنه أنه قال لمعاوية رضي الله عنه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “من ولاه الله شيئاً من أمور المسلمين، فاحتجب دون حاجتهم وخلتهم وفقرهم، احتجب الله دون حاجته وخلته وفقره يوم القيامة” فجعل معاوية رجلا على حوائج الناس. ((رواه أبو داود والترمذي)).
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Maryam Al-Azdi (may Allah be well pleased with him) reported that I said to Hadrat Mu'awiyah (bin Abu Sufyan) (may Allah be well pleased with them): I heard Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying, "If Allah invests to someone the affairs of the Muslims and he (i.e., the ruler) ignores their rights, denies their access to him and neglects their needs, Allah will not answer his prayer or realize his hopes and will act towards him with indifference on the Day of Resurrection." So Hadrat Mu'awiyah appointed a person to keep a vigil on the necessities of the people and to fulfill them..
اردو ترجمہ
حضرت ابو مریم ازدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: جسے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنائے اور وہ ان کی حاجت، تنگ دستی اور فقر سے پردہ کرے (یعنی ان سے دور رہے) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی حاجت، تنگ دستی اور فقر سے پردہ فرمائے گا (یعنی اسے نظرانداز فرمائے گا)۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی ضروریات کے لیے ایک شخص مقرر کر دیا۔ (ابو داؤد، ترمذی)
