عربی (اصل)
الخامس عشر: عن أنس رضي الله عنه، قال: غاب عمي أنس ابن النضر رضي الله عنه، عن قتال بدر، فقال: يارسول الله غبت عن أول قتال قاتلت المشركين، لئن الله أشهدني قتال المشركين ليرين الله ما أصنع. فلما كان يوم أحد انكشف المسلمون، فقال اللهم أعتذر إليك مما صنع هؤلاء - يعني أصحابه- وأبرأ إليك مما صنع هؤلاء- يعني المشركين- ثم تقدم فاستقبله سعد بن معاذ، فقال: ياسعد بن معاذ الجنة ورب الكعبة، إني أجد ريحها من دون أحد. قال سعد: فما استطعت يا رسول الله ما صنع! قال أنس: فوجدنا به بضعاً وثمانين ضربة بالسيف، أو طعنة برمح ، أو رمية بسهم، ووجدناه قد قتل ومثل به المشركون فما عرفه أحد إلا أخته ببنانه. قال أنس: كنا نرى أو نظن أن هذه الآيه نزلت فيه وفي أشباهه: {من المؤمنين رجال صدقوا ما عهدوا الله عليه} (( الأحزاب: 23)) إلى آخرها. ((متفق عليه)).
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said:My uncle Anas bin An-Nadr (may Allah be well pleased with him) was absent from the battle of Badr and he said: "O Beloved Messenger of Allah! I was absent from the first battle you fought against the pagans, and if Allah let me participate in a battle against the pagans, Allah will see what I do." So he encountered the day of Uhud Battle. The Muslims left the positions (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) instructed them to keep) and were defeated, he said: "O Allah! excuse these people (i.e., the Muslims) for what they have done, and I am clear from what the pagans have done". Then he went forward with his sword and met Sa'd bin Mu'adh (fleeing) and said to him: "By the Rubb of the Sacred Ka'bah! I can smell the fragrance of Jannah from a place closer than Uhud Mount". Sa'd said: "O Beloved Messenger of Allah, what he did was beyond my power". Hadrat Anas said: "We saw over eighty wounds on his body caused by stabbing, striking and shooting of arrows and spears. We found that he was killed, and mutilated by the polytheists. Nobody was able to recognize him except his sister who recognized him by the tips of his fingers." Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: "We believe that the Ayah 'Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah .
اردو ترجمہ
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میرے چچا حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پہلی لڑائی جو آپ نے مشرکوں سے لڑی اس میں غائب رہا۔ اگر اللہ نے مجھے مشرکوں سے لڑائی میں شامل کیا تو اللہ ضرور دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ احد کے دن جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انہوں نے کہا: اے اللہ! ان لوگوں (یعنی مسلمانوں) نے جو کیا اس سے میں تجھ سے معذرت چاہتا ہوں اور ان لوگوں (یعنی مشرکوں) نے جو کیا اس سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں۔ پھر آگے بڑھے تو حضرت سعد بن حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے۔ فرمایا: اے سعد! رب کعبہ کی قسم! جنت! میں جنت کی خوشبو احد سے پہلے پا رہا ہوں۔ حضرت سعد نے کہا: یا رسول اللہ! جو انہوں نے کیا وہ میرے بس میں نہ تھا۔ حضرت انس فرماتے ہیں: ہم نے ان کے جسم پر تلوار، نیزے اور تیروں کے اسی سے زیادہ زخم پائے اور وہ شہید ہو چکے تھے اور مشرکوں نے ان کا مُثلہ کر دیا تھا، کسی نے انہیں نہیں پہچانا سوائے ان کی بہن نے ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ حضرت انس فرماتے ہیں: ہمارا خیال تھا یا ہم سمجھتے تھے کہ یہ آیت ان کے اور ان جیسوں کے بارے میں نازل ہوئی: "مؤمنوں میں وہ مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا" (الاحزاب: 23)۔ (متفق علیہ)
