عربی (اصل)
عَنْ أَبي أُمامةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَن النَّبِيّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ أَغْبَطَ أَوْلِيَائي عِنْدِي لَمُوْمِنُ خَفِيفُ الخَاذِ ذُو حَظِّ مِنَ الصَّلاةِ أَحْسَنَ عِبَادَتَ رَبِّهِ وَ أَطَاعَهُ فِي السَّرِّ وَ كَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ لا يُشارُ إِلَيْهِ بِالأَصابِعِ وَ كَانَ رِزْقُهُ كفافًا فَصَبَرَ عَلى ذَلِكَ ثُمَّ نَفَضَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ : عُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ قَلَّتْ بَواكِيهِ قَلَّ تُرَاثُهُ رواه الترمذي (وكذالك أحمد و ابن ماجه) وإسنَاده حسن
انگریزی ترجمہ
On the authority of Hadrat Abu Umamah (may Allah be well pleased with him), who said that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Allah (mighty and sublime be He) said: Truly, of those devoted to Me the one I most favour is a believer who is of meager means and much given to prayer, who has been particular in the worship of his Lord and has obeyed Him inwardly, who was obscure among people and not pointed out, and whose sustenance was just sufficient to provide for him yet he bore this patiently. Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) shook his blessed hand and said: Death will have come early to him, his mourners will have been few, his estate scant. It was related by at-Tirmidhi (also by Ahmad ibn Hanbal and Ibn Majah). Its chain of authorities is sound.
اردو ترجمہ
حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل نے فرمایا: بے شک میرے اولیاء میں سب سے زیادہ رشک والا مومن وہ ہے جو ہلکے بوجھ والا ہو، نماز سے خوب حصہ پانے والا ہو، اپنے رب کی عبادت احسن طریقے سے کرتا ہو اور باطنی طور پر اس کی اطاعت کرتا ہو، لوگوں میں گمنام ہو، انگلیوں سے اشارہ نہ کیا جاتا ہو، اور اس کا رزق بس گزارے کے لائق ہو اور وہ اس پر صبر کرتا ہو۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ جھٹکا اور فرمایا: اس کی موت جلدی آگئی، اس پر رونے والے کم تھے، اس کا ترکہ تھوڑا تھا۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا (نیز احمد اور ابن ماجہ نے بھی)۔ اس کی سند حسن ہے۔
