عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُبَىٍّ، قَالَ مَا حَاكَ فِي صَدْرِي مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلاَّ أَنِّي قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَهَا آخَرُ غَيْرَ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَقَالَ الآخَرُ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَقْرَأْتَنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ " نَعَمْ " . وَقَالَ الآخَرُ أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ " نَعَمْ إِنَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ أَتَيَانِي فَقَعَدَ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِي وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِي فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ . قَالَ مِيكَائِيلُ اسْتَزِدْهُ اسْتَزِدْهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ فَكُلُّ حَرْفٍ شَافٍ كَافٍ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Ubayy (may Allah be well pleased with him) said: "I had no confusion in my mind from that time I embraced Islam, except when I recited a verse and another man recited it differently. I said: 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) taught me this.' And the other man said: 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) taught me too.' So I went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah, did you not teach me such and such a verse?' He said: 'Yes.' The other man said: 'Did you not teach me such and such a verse?' He said: 'Yes. Jibril and Mika'il, peace be upon them, came to me, and Jibril sat on my right and Mika'il on my left. Jibril (blessings and peace of Allah be upon him), said: "Recite the Quran with one way of recitation.' Mika'il said: 'Teach him more, teach him more- until there were seven modes of recitation, each of which is good and sound
اردو ترجمہ
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا تو میرے دل میں کوئی خلش پیدا نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ میں نے ایک آیت پڑھی، اور دوسرے شخص نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو میں نے کہا: مجھے یہ آیت خود رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھائی ہے، تو دوسرے نے بھی کہا: مجھے بھی یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہی پڑھائی ہے، بالآخر میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے مجھے یہ آیت اس اس طرح پڑھائی ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں ، اور دوسرے شخص نے کہا: کیا آپ نے مجھے ایسے ایسے نہیں پڑھایا تھا؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں! جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام دونوں میرے پاس آئے، جبرائیل میرے داہنے اور میکائیل میرے بائیں طرف بیٹھے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ قرآن ایک حرف پر پڑھا کریں، تو میکائیل نے کہا: آپ اسے ( اللہ سے ) زیادہ کرا دیجئیے یہاں تک کہ وہ سات حرفوں تک پہنچے، ( اور کہا کہ ) ہر حرف شافی و کافی ہے ۔
