عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا نُوحٌ، - يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ - عَنِ ابْنِ مَالِكٍ، - وَهُوَ عَمْرٌو - عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ - قَالَ - فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الأَوَّلِ لِئَلاَّ يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ } .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with him) said: "There was a woman who used to pray behind the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) who was beautiful, one of the most beautiful of people. Some of the people used to go to the front row to avoid seeing her, and some used to go to the back row so that when they bowed they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed the words: 'To Us are known those of you who hasten forward and those who lag behind
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ( الحجر: ۲۴ ) ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں ۔
