عربی (اصل)
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلاَنٍ رِيحَ شَرَابٍ فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلاَءِ وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا جَلَدْتُهُ فَجَلَدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه الْحَدَّ تَامًّا .
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat As-Sa'ib that (may Allah be well pleased with him) :'Umar bin Al-Khattab went out t them and said: "I noticed the smell of drink on so-and-so, and he said that he had drunk At-Tila' (thickened juice of grapes). I am asking about what he drank. If it was an intoxicant I will flog him." So 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be well pleased with him, flogged him, carrying out the Hadd punishment in full
اردو ترجمہ
حضرت سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر نکلے اور فرمایا: مجھے فلاں شخص سے مشروب کی بو آئی اور اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے طِلاء (ابلا ہوا انگور کا رس) پیا ہے۔ میں اس کے بارے میں تحقیق کر رہا ہوں، اگر وہ نشہ آور تھا تو میں اسے کوڑے لگاؤں گا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے پورے کوڑے لگائے۔
