عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي كَمْ تُقْطَعُ الْيَدُ قَالَ " لاَ تُقْطَعُ الْيَدُ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ فَإِذَا ضَمَّهُ الْجَرِينُ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ وَلاَ تُقْطَعُ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ فَإِذَا آوَى الْمُرَاحَ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat 'Amr (may Allah be well pleased with him) bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was asked: 'For how much is the hand (of the thief) to be cut off?' He said: 'The hand (of the thief) is not to be cut off for (stealing) fruit on the tree, but if (the fruit) has been taken to the place where it is stored to dry, then the (thief's) hand is to be cut off (if what is stolen is equivalent to) the price of a shield. The (thief's) hand is not to be cut off for a sheep (stolen) from the grazing land, but if it had been put in the pen, then the (thief's) hand is to be cut off (if what is stolen is equivalent to) the price of a shield
اردو ترجمہ
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا: کتنی (قیمت کی چوری) میں ہاتھ کاٹا جائے گا؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: درخت پر لٹکے ہوئے پھل (کی چوری) میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں جب پھل خشک کرنے کی جگہ (جرین) میں رکھ دیا جائے تو ڈھال کی قیمت (کی چوری) میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور پہاڑ کی چراگاہ سے بکری (کی چوری) میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں جب اسے باڑے میں رکھ دیا جائے تو ڈھال کی قیمت (کی چوری) میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔
