عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ نَبِيعُ الأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا وَنُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ وَيُسَمِّينَا النَّاسُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ لَنَا مِنَ الَّذِي سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمُ الْحَلِفُ وَاللَّغْوُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Qays bin Abi Gharazah (may Allah be well pleased with him) said: "We used to trade in the markets of Al-Madinah and we used to call ourselves as-Samasir (brokers) and the people called us that, but the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came out to s and called us by a name that was better than what we called ourselves. He said: "O merchants (Tujjar)! Selling involves (false) oaths and idle talk, so mix some charity with it,"" (Sahih)
اردو ترجمہ
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم مدینہ میں غلّے خریدتے اور بیچتے تھے اور اپنے آپ کو سمسار (دلال) کہتے تھے اور لوگ بھی ہمیں اسی نام سے پکارتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور ہمیں اس سے بہتر نام دیا جو ہم نے خود رکھا تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! بے شک تمہاری خرید و فروخت میں قسمیں اور لغو باتیں شامل ہو جاتی ہیں، لہٰذا اسے صدقے سے ملایا کرو۔
