عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ النُّعْمَانِ، وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَاهُ عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُنْفِذَهُ أَنْفَذْتُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَهُ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَارْدُدْهُ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Bashir bin Sa'd (may Allah be well pleased with him) that he brought An-Nu'man to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said: "I want to give this son of mine a slave as a present, and if you think that I should go ahead with it, I will go ahead." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Have you given a present to all your children?" He said: "No." He said: "Then take (your present) back
اردو ترجمہ
حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ( اپنے بیٹے ) نعمان بن بشیر کو لے کر آئے اور عرض کیا: میں نے اس بیٹے کو ایک غلام بطور عطیہ دیا ہے، اگر آپ اس عطیہ کے نفاذ کو مناسب سمجھتے ہوں تو میں اسے نافذ کر دوں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم اسے واپس لے لو“۔
