عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، - هُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ - عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ عَمْرِو ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَاعْتَدِّي فِيهِ " . فَحَصَبَهُ الأَسْوَدُ وَقَالَ وَيْلَكَ لِمَ تُفْتِي بِمِثْلِ هَذَا . قَالَ عُمَرُ إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِلاَّ لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللَّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ { لاَ تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلاَ يَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ } .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Fatimah bint Qais (may Allah be well pleased with her) said: "My husband divorced me and I wanted to move, so I went to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and he said: 'Move to the house of your paternal cousin 'Amr bin Umm Maktum, and observe your 'Iddah there.'" Al-Aswad hit him (Ash-Sha'bi) with a pebble and said: "Woe be to you! Why do you issue such a Fatwa? 'Umar said: 'If you bring two witnesses who will testify that they heard that from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (we will believe you), otherwise, we will not leave the Book of Allah for the word of a woman.' 'And turn them not out of their (husband's) homes nor shall they (themselves) leave, except in case they are guilty of some open Fahishah
اردو ترجمہ
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تو میں نے ( شوہر کے گھر سے ) منتقل ہو جانے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ( اجازت طلب کرنے کی غرض سے ) آئی، آپ نے ( اجازت عطا فرمائی ) فرمایا: ”اپنے چچا زاد بھائی عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ اور وہیں عدت کے دن گزارو“۔ ( یہ سن کر ) اسود نے ان کی طرف ( انہیں متوجہ کرنے کے لیے ) کنکری پھینکی اور کہا: تمہارے لیے خرابی ہے ایسا فتویٰ کیوں دیتی ہو۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اگر تم دو ایسے گواہ پیش کر دو جو اس بات کی گواہی دیں کہ جو تم کہہ رہی ہو اسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے تو ہم تمہاری بات قبول کر لیں گے۔ اور اگر دو گواہ نہیں پیش کر سکتیں تو ہم کسی عورت کے کہنے سے کلام پاک کی آیت: «لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» ”نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں“۔ ( الطلاق: ۱ ) پر عمل کرنا ترک نہیں کر سکتے۔
